حالانکہ عاشقی میں نہیں بانکپن حرام
پرکارہائے دل بری میں ہے غبن حرام
رکھی نہ ہم نے لقمۂِ مشکوک پر نظر
ہونے دیا رگوں میں نہیں موجزن حرام
ہم پر ہوا حلال کوئی لمس تو کھلا
ہر اک لطیف چیز نہیں کلیتاً حرام
سادہ دلی سے دہر میں چلنا محال ہے
اس دورِ چال باز میں ہے بھولپن حرام
اس کا برا مناتی ہے تنہائی میری ، دوست
خود پر نہیں کی باخوشی ہر انجمن حرام
خود آج گریہ زار ہے فطرت کی چوٹ سے
کل تک ہمارے حال پہ تھا خندہ زن حرام
اس حسنِ آتشیں کو سراہا قمرؔ ضرور
جل کر اس آگ میں نہ کیا تن بدن حرام
قمرآسیؔ

0