امن میں پھول ، جنگ میں ہتھیار
اس سے بہتر نہیں ہے کاروبار
ظرف کی اپنے کیجے پیمائش
پھر بھلے ناپ لیں مرا کردار
چھٹ گئے ماہتاب سے بادل
آرزو کا شجر ہوا پھل دار
آپ کی شوخی ہے خدا کی شان
مرا مضمونِ شعر استغفار
عشق کا عین اس کی آنکھیں ہیں
شین ہیں اس کے شربتی رخسار
قاف سے ہے مراد قوسِ کمر
ہے سراپائے عشق حسنِ یار
اک شرارت کو بھانپ کر میری
سرخ ہونے لگے ترے رخسار
ہم قدم ہے وہ پھر تخیل میں
نظم پوری ہوئی ہے آخر کار
بد گمانی کا ٹل گیا کہرا
مسکرانے لگا قمرؔ سنسار
قمرآسیؔ

0
3