| امن میں پھول ، جنگ میں ہتھیار |
| اس سے بہتر نہیں ہے کاروبار |
| ظرف کی اپنے کیجے پیمائش |
| پھر بھلے ناپ لیں مرا کردار |
| چھٹ گئے ماہتاب سے بادل |
| آرزو کا شجر ہوا پھل دار |
| آپ کی شوخی ہے خدا کی شان |
| مرا مضمونِ شعر استغفار |
| عشق کا عین اس کی آنکھیں ہیں |
| شین ہیں اس کے شربتی رخسار |
| قاف سے ہے مراد قوسِ کمر |
| ہے سراپائے عشق حسنِ یار |
| اک شرارت کو بھانپ کر میری |
| سرخ ہونے لگے ترے رخسار |
| ہم قدم ہے وہ پھر تخیل میں |
| نظم پوری ہوئی ہے آخر کار |
| بد گمانی کا ٹل گیا کہرا |
| مسکرانے لگا قمرؔ سنسار |
| قمرآسیؔ |
معلومات