انا سے پہلو بچا کے چلنا
سبھی کو اپنا بنا کے چلنا
نہ تم کو ناکامی ڈھونڈھ پائے
نشان سارے مٹا کے چلنا
خراج مانگیں خزائیں تم سے
تو پھول شبنم لٹا کے چلنا
وفا کا جگ میں صلہ یہی ہے
کٹانا سر یا جھکا کے چلنا
یقیں کا موسم گزر چکا ہے
وفائیں اپنی دکھا کے چلنا
تمہارے سر پر ہیں جتنے ساغر
یہ قرض سارے چکا کے چلنا

0
30