اس یاد میں دلبر کی مسرور ہے دل میرا
اور زائرِ بطحا میں مشہور ہے دل میرا
اس شہرِ منور میں یہ روضہ ہے دلبر کا
دیکھیں گے درِ جاں کو مشکور ہے دل میرا
انوار کے باراں ہیں اس وادیِ اقدس میں
مستی ہے جو منظر میں مخمور ہے دل میرا
اس مسجدِ دلبر میں برساتِ لطافت ہے
سینے میں ضیا اس سے معمور ہے دل میرا
سرکار نبی سرور مختارِ جہاں جاناں
الطاف سے اُن کے اب بھرپور ہے دل میرا
یہ گنبدِ خضریٰ ہے منظر ہے نظر میں جو
رحمت میں ہے طغیانی پُر نور ہے دل میرا
میں اپنے خیالوں کو لایا ہوں درِ جاناں
ہو دور مدینے سے مجبور ہے دل میرا
محمود وہ سنتے ہیں ہر بات مدینے میں
اب ذکرِ مدینہ پر مامور ہے دل میرا

0
1