درد کو میرے بیان ملے
اجڑے کو کوئی مکان ملے
بیج یقین کا اُگتا نہیں
جس مٹی میں گمان ملے
تپتے ہوۓ صحرا کا سفر
سایہ نہ رہ کے نشان ملے
وسعتیں افری نظر کی ہوں
قلب کو مست جہان ملے

0
16