کھو گئے پیار کے فسانے سے
وہ مرے دوست کچھ پرانے سے
ہاتھ زخموں سے بھر گئے میرے
ایک تصویرِ غم لگانے سے
آج ساقی کی پھر مہک آئی
اس پرانے شراب خانے سے
آخری شہر میں ہوئی بارش
ہجر زادوں کو آزمانے سے
حسن میرا بھی تھا بہار کبھی
تیرے جلوے تھے جب سہانے سے
تیری مورت تراش کر ہم نے
دل لگایا ہے آستانے سے
کون جانے خدا کی آنکھیں بھی
بھیگتی ہوں گی بھول جانے سے
گر ہو ممکن تو میرے دل پہ بھی
تیر مارو کبھی نشانے سے
دل ہے ویرانیِ طلب ساگر
کچھ بھی حاصل نہیں زمانے سے

0
5