چڑھا جو تیسرا دن ہے یہ پُر انوار جلسے کا
دعاؤں میں سمٹ آیا ہے سب کردار جلسے کا
ہے منظر عالمی بیعت کا دھڑکیں دل تو آنکھیں نم
امامِ وقت سے عہدِ وفا اقرار جلسے کا
ہزاروں جاں نثاروں نے وفا کا عہد دہرایا
نئے شامل ہوئے کتنے یہ ہے اظہار جلسے کا
معطّر ہیں فضائیں نورِ ایماں ہر طرف پھیلا
مہکتے دل سجاتے ہیں یہاں گلزار جلسے کا
خلیفہ کی دعاؤں کی قبولیّت کا مظہر ہے
کہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ہر معیار جلسے کا
تلاوت ذکر تکبیریں مناجاتوں کی خوشبو سے
مہک اٹھا ہو جیسے ہر در و دیوار جلسے کا
یہ تینوں دن رہیں دل میں چراغوں کی طرح روشن
نہ بجھ پائے کبھی دل سے چراغِ یار جلسے کا
خدا رکھّے سلامت تا ابد یہ روح پرور دن
رہے سر پر ہمارے قافلہ سالار جلسے کا
دعاؤں کے سہارے پھر گھروں کو لوٹتے ہیں ہم
ہر اک دل میں سمایا تحفۂِ اثمار جلسے کا

0
9