آج پھر یادوں کا موسم میرے اندر آ گیا
بند کمرے میں اچانک اک سمندر آ گیا
اس نے پوچھا حال میرا، میں تو ہنس کر رہ گیا
درد جو برسوں چھپایا تھا وہ باہر آ گیا
جس گلی سے عمر بھر بچ کر گزرتا ہی رہا
اک مہک نے پھر بلایا، میں اُسی گھر آ گیا
اس نے پوچھا، آج بھی تم یاد کرتے ہو مجھے؟
پھر نگاہوں میں پرانا سا وہ منظر آ گیا
اس کی باتوں میں وہی پہلی سی شوخی دیکھ کر
پھر نگاہوں میں پرانا سا شرر بھی آ گیا
اس نے شاہدؔ نام لے کر جب پکارا ایک بار
پھر نگاہوں میں پرانا سا وہ پیکر آ گیا

0
3