فقط جوانی کو ہی اب سلام ہوتا ہے
وگرنہ سارا بڑھاپا غُلام ہوتا ہے
جو ساری عمر کسی اک کے نام ہوتا ہے
وہی تو عشق کا اصلی امام ہوتا ہے
وہ شخص توڑے گا اک دن انانیت کا بت
جو دوسروں کے لئے خوش کلام ہوتا ہے
مقام یہ بھی تو ہے کوئی عمرِ فانی میں
کہ زندہ رہنا جہاں ایک کام ہوتا ہے
کسی دُکان سے کوئی خرید لے گا جمال
کہاں یہ عشق زمانے میں عام ہوتا ہے

0
4