ہے تشنگئ آب ، کہیں بھوک کی شدت
ڈھایا ہے مسلمانوں پہ کیا قہرِ قیامت
وہ کل جو نگہباں تھے کلیساؤں کے ان کے
منظور ہے آج ان کو بھی یورپ کی حمایت
یہ ہیکلِ داؤد و سلیماں کے محافظ
کیوں کر کرے تسلیم فلسطیں کی ریاست
کچھ بن نہ سکا صاحب و پیرانِ حرم سے
ناکام رہی دہر میں عربوں کی سیادت
ہو محفلِ ملت کوئی یا مجلسِ اقوام
مغرب کی ثنا خوانی ہے اب ان کی روایت
ہم وارثِ شاہانِ ثنا خوانِ محمد
ہے باعثِ صد عار ہمیں ان کی قیادت

0
9