دبانا ہے کسے من کو
‎لگے ہاتھوں دبا لے وہ
‎ستمگر بن کے برسے تو
‎جہاں والوں کو لے ڈوبے
‎بنے مجنوں بنے لیلہ
‎جسے بننا ہے بن جائے
‎کوئی ہے داعی الفت کا
‎جہاں والوں سے لڑ جائے
‎کشش مانگے محبت کی
‎سنور جائے نکھر جائے
‎جسے ڈر ہو تڑپنے کا
‎وہ نیا سے اتر جائے
‎یہ جذبہ ہے جوانوں کا
‎جو بوڑھا ہے وہ گھر جائے
‎محبت مانگ ہے سب کی
‎جو عاشق ہیں انہیں پوچھو
‎ملے جب یہ تو نعمت ہے
‎جسے نہ مل سکی یہ شے
‎وہ زندہ ہو تو مر جائے
‎تجارت ہے محبت بھی
‎اگر جانو اگر سمجھو
‎جو تم بانٹوں گے الفت کو
‎یہ نسلوں میں اتر جائے
‎بہا لاؤ چلے آؤ
‎پلٹ آؤ جہاں والو
‎مہکنا ہے چہکنا ہے
‎محبت میں کسے ممتاز ہونا ہے
‎جسے ہونا ہے آ جائے
‎جو چاہو تم رہوں زندہ
‎محبت صرف کر جاؤ
‎محبت کا سمندر ہے
‎سمندر میں اتر جاؤ
‎اگر تم مر گئے اس میں
‎تو زندہ تم رہو گے پھر
‎یہ منطق سے پڑے کی ہے
‎محبت جس کو کہتے ہیں
‎یہ ذہنوں کی نہ باتیں ہیں
‎دلوں سے دل میں طے پائیں
‎تو پھر ہم کہہ رہے ہیں آج
‎ہمیں تم سے محبت ہے
‎ہمیں تم سے محبت ہے
‎کلیجے سے جگر سے بھی
‎جگر کے ایک خلیے سے
‎قلب کے چار کونوں سے
‎جو نکلے اس صدا سے بھی
‎جسم کے بند کمرے میں
‎جو بستے ہیں سبھی خلیے
‎لہو کے جتنے قطرے ہیں
‎انہیں تم سے محبت ہے
‎مجھے تم سے محبت ہے

0
12