| دل کے صحرا کو مٹا لیں گے، تم آؤ تو سہی |
| خواب آنکھوں میں سجا لیں گے، تم آؤ تو سہی |
| تم جو آ جاؤ تو ہر درد بھی راحت بن جائے |
| زخم سینے کے چھپا لیں گے، تم آؤ تو سہی |
| یہ جو تنہائی کا عالم ہے ستاتا ہم کو |
| اس کو ہنس کر بھی بھلا لیں گے، تم آؤ تو سہی |
| عمر بھر ساتھ نبھانے کا ارادہ ہے ہمیں |
| خود کو وعدوں میں سما لیں گے، تم آؤ تو سہی |
| تم ملو گے تو یہ دنیا بھی حسیں لگنے لگے |
| رنگ خوشیوں کے اُڑا لیں گے، تم آؤ تو سہی |
| راہ میں کتنے ہی کانٹے ہوں، گلہ کیا کرنا |
| پاؤں زخموں سے سجا لیں گے، تم آؤ تو سہی |
| وقت کی دھوپ نے جلایا ہے عادل کو مگر |
| چھاؤں یادوں کی بنا لیں گے، تم آؤ تو سہی |
معلومات