چین ملتا ہی نہیں ہے مجھے ویرانے میں
جی مگر مانا نہیں لوٹ کے گھر جانے میں
شاید اس جوشِ جنوں کا ہو وہاں ہی کوئی حل
اٹھ ذرا چلتے ہیں پھر یار کے میخانے میں
بادِ عشرت نہ کبھی آئی دروں خانۂ دل
ایک ہی کھڑکی رکھی تھی میں نے غم خانے میں
اتنا مشکل بھی نہیں تجھ کو بھلا نا مجھ سے
اک گھڑی لگتی ہے انسان کو بہکا نے میں

0
6