| نظر اس رخ پہ جب ہم نے جمائی |
| تو باڑ اک اس نے بیچوں بیچ اٹھائی |
| اتر کر آپ گاڑی سے گئے کیا |
| اداسی آ کے پہلو میں سمائی |
| رہِیں چمگادڑیں آنکھوں میں شب بھر |
| ہنسی بے شرم شبنم نے اڑائی |
| یہ کیسے مرحلے پر لا کے چھوڑا |
| گڑھا آگے ہے اپنے پیچھے کھائی |
| نکل کر گر پڑا قدموں میں دل ہی |
| چلے تھے دل کی ہم کرنے صفائی |
| لچک تھوڑی رویّے میں ہے لازم |
| سبھی دیتے جو ہیں تیری دہائی |
| ابھی حسرتؔ ہیں زد میں آفتوں کی |
| مقدّر سے ہماری بن نہ پائی |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۲۷، مارچ ۲۰۲۶ |
| Rasheedhasrat199@gmail.com |
معلومات