کچھ ایسے زخم بھی دل میں چھپائے جاتے ہیں
جو مسکراتے ہوئے بھی دکھائے جاتے ہیں
یہ کس مقام پہ لے آئی سادگی ہم کو
کہ جھوٹ سچ کی طرح اب سنائے جاتے ہیں
کسی کے دل میں اترنا تو اور بات ہوئی
یہاں تو رشتے فقط آزمائے جاتے ہیں
وہ ایک شخص جو اپنا کبھی نہیں ہوتا
اسی کے خواب مسلسل سجائے جاتے ہیں
ہمیں خبر ہے چراغوں کی عمر کتنی ہے
مگر ہواؤں سے رشتے بنائے جاتے ہیں
جنہیں بھلانے میں اک عمر صرف ہوتی ہے
وہ نام باتوں میں پھر کیوں اٹھائے جاتے ہیں
وفا کے شہر میں دستور بھی عجب نکلا
یہاں پہ بے وفا سر پر بٹھائے جاتے ہیں
یہ دل بھی کیسا مسافر ہے، جانتا ہے مگر
جہاں سے چوٹ ملے، اس جگہ جائے جاتے ہیں
کسی کی یاد کو دل سے نکالنا ہو اگر
تو اس کے نقش ہی پہلے مٹائے جاتے ہیں
محبتوں میں تو اکثر یہی ہوا شاہدؔ
جو سب سے خاص ہوں، اکثر ستائے جاتے ہیں

0
4