| ترے پیار میں وہ اثر ہی کہاں |
| ترے درد میں ایک تاثیر ہے |
| مرے دل کی ویران بستی میں اب |
| تری یاد ہی ایک تنویر ہے |
| جو بھی زخم تو نے دیے تھے مجھے |
| وہی میری ہستی کی تقدیر ہے |
| میں ہنستا ہوں محفل میں سب کے لیے |
| مرے دل میں اک آہِ شب گیر ہے |
| نہ اب قرب کی آرزو ہے مجھے |
| نہ ہی ہجر اب کوئی زنجیر ہے |
| جو بھی لوگ سمجھے تھے ہارا مجھے |
| مری خامشی ہی مرا تیر ہے |
| ترے درد نے ہی سکھایا مجھے |
| غمِ عشق ہی اصل جاگیر ہے |
| بھلا کوئی سمجھے نہ ساگر مجھے |
| مرا درد ہی میری تحریر ہے |
معلومات