دیکھتے دیکھتے موسم بھی نکھر جائے گا
ابر ٹھہرے گا نہ صحرا سے گزر جائے گا
دیکھتے دیکھتے جب وقت گزر جائے گا
سایہ دیوار سے گھبرا کے اتر جائے گا
کیا کبھی غور سے سوچا ہے تو اس بارے میں
دل پہ ٹوٹی جو قیامت تو کدھر جائے گا
وقت کا کام ہے چلنا، یہ ٹھہر سکتا نہیں
جو بھی رک جائے گا، رستوں میں بکھر جائے گا
کس نے سوچا تھا کہ اک شخص جو اپنا تھا کبھی
یاد بن جائے گا، اور دل سے اتر جائے گا
میں نے چاہا تھا جسے تم سے زیادہ عاصم
کیا خبر تھی کہ وہ اک پل میں مکر جاۓ گا

87