| گم ہو گیا تھا بندہ ایک |
| شریک غم تھے لوگ انیک |
| خوب مشورہ ہوا بڑی بات کی گئی |
| یعنی اسی طرح سے بسر رات کی گئی |
| اک مشورہ یہ آیا کئی مشوروں کے بعد |
| پہلے رپٹ لکھاؤ تلاشیں گے اس کے بعد |
| پھر کیا تھا ہم پہنچ گئے تھانے میں محترم |
| تاکہ پولیس کا ہم کو بھی حاصل ہو کچھ کرم |
| نام و پتہ بھی پوچھا اور کام اس کا پوچھا |
| کب سے ہوا ہے ایسا انجام اس کا پوچھا |
| کہنے لگا پولسیہ سے پوچھنے کے بعد |
| تفتیش ہم کریں گے بتائیں گے اس کے بعد |
| ایک ماہ تک تو ہم نے کیا خیر انتظار |
| تھانے پہنچ گئے جو ہوئے حد سے بے قرار |
| پوچھا کہ کیا ہوا میری گمشدگی کی رپورٹ کا |
| انجام کچھ ملا نہیں رشوت کے نوٹ کا |
| کہنے لگا وہ افسر خاکی بزرگوار |
| تفتیش ہو رہی ہے کرو اور انتظار |
| ایک سال ہو گیا کوئی امید بر نہ آئی |
| اس کو تلاش کرنے کی صورت نظر نہ آئی |
| فضل و کرم خدا کا ہوا خاندان پر |
| ترکیب کا نزول ہوا اس جوان پر |
| ایک روز پا گیا جو خالی مکان کو |
| رستہ فرار کا دکھا پھر نوجوان کو |
| اک روز دوپہر کو وہ آیا ڈرا ہوا |
| دکھ درد سے تھا غم سے مکمل بھرا ہوا |
| آیا تو ایک شور سا بستی میں مچ گیا |
| ہر کوئی اس کو دیکھنے فوراً پہنچ گیا |
| پوچھا گیا کہاں تھے برادر بتائیے |
| نکلے وہاں سے کیسے ہو باہر بتائیے |
| بولا بتائیں کیا میاں باپو کے دیس میں |
| گنڈے ہیں گھومتے یہاں وردی کے بھیس میں |
| دھوکا مجھے ہوا تھا پولیس کے لباس سے |
| اغوا کیا گیا میں کچہری کے پاس سے |
| خوف و ہراس میں رہا ہر وقت میں جہاں |
| مجھ کو نہ تھی خبر مجھے رکھا گیا کہاں |
| اب تو خدا بچائے گا مجھ کواس آس میں |
| میں قید اتنے دن رہا تھانے کے پاس میں |
| خیر چھوڑیے کہ جو بھی ہے یاں پر کمال ہے |
| جو اپنا حال ہے وہی سسٹم کا حال ہے |
| پھل مل رہے ہیں آپ کو تازہ ہوائیں بھی |
| نعمت سے کم نہیں ہیں ملیں گر دعائیں بھی |
| گھر آگیا تو سانس لی سب نے ہی چین کی |
| ازہر دعا قبول ہوئی والدین کی |
معلومات