اُن کو محبوب رب نے کہا ہے
شان جن کی خلق میں سوا ہے
ہر جہاں پر وہ رحمت کے باراں
اُن کو کوثر خدائی عطا ہے
قال حق ہے حبیبِ الہ سے
قول اُن کا رضائے خدا ہے
عشقِ احمد میں لذت نہ پوچھیں
جام ساقی سے بحرِ عطا ہے
آب تھمتا نہیں آنکھ سے اب
پیارے، دلبر رسولِ خدا ہے
جن کے الطاف سارے جہاں پر
اُن کی چوکھٹ سے ملتا بھلا ہے
وہ ہیں احسان محمود رب کے
جو خلق پر خدا سے ہوا ہے

0
1
5
یہ اشعار دراصل حضور **رسولِ اکرم ﷺ** کی عظمت، محبت اور رحمت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنا محبوب قرار دیا ہے اور آپ کی شان تمام مخلوق سے بلند ہے۔ آپ ﷺ پوری کائنات کے لیے رحمت ہیں اور اللہ نے آپ کو بے شمار روحانی نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔
اس کلام میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حضور ﷺ کی بات اور تعلیمات اللہ کی رضا کے مطابق ہیں۔ آپ ﷺ کی محبت میں ایک ایسی روحانی لذت ہے جو دل کو سرور بخشتی ہے۔ شاعر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آنکھوں سے محبت کے آنسو جاری رہتے ہیں اور دنیا کی بھلائی بھی حضور ﷺ کی نسبت اور ان کی تعلیمات سے حاصل ہوتی ہے۔

0