دلبر کے فدائی ہیں مجلس کو سجاتے ہیں
جب ذکرِ مدینہ ہو آنسو بھی بہاتے ہیں
میلاد کی محفل دے گلشن کو گراں رونق
آتے ہیں وہی جن کے سرکار سے ناطے ہیں
جب عشق نبی سرور کرتا ہے دروں روشن
قدموں میں اگر چاہیں دلدار بلاتے ہیں
سرکار کرم کر دیں اک دید کے طالب ہیں
یہ ہجر کے اب لمحے دن رات ستاتے ہیں
اس شہرِ مدینہ کی کتنی ہے فضا نوری
منظر ہے یہ جنت کا آسار بتاتے ہیں
آتے ہیں ملائک بھی سرکار کی مجلس میں
نغماتِ نبی سرور جنات سناتے ہیں
ہر آن ہی جاری ہے آقا کی ثنا ہر جا
کونین سدا مدحت سرکار کی گاتے ہیں
محمود نبی میرے سلطان ہیں نبیوں کے
ملنا ہو جو قادر سے قوسین میں جاتے ہیں