دلبر کے فدائی ہیں مجلس کو سجاتے ہیں
جب ذکرِ مدینہ ہو آنسو بھی بہاتے ہیں
میلاد کی محفل دے گلشن کو گراں رونق
آتے ہیں وہی جن کے سرکار سے ناطے ہیں
جب عشق نبی سرور کرتا ہے دروں روشن
قدموں میں اگر چاہیں دلدار بلاتے ہیں
سرکار کرم کر دیں اک دید کے طالب ہیں
یہ ہجر کے اب لمحے دن رات ستاتے ہیں
اس شہرِ مدینہ کی کتنی ہے فضا نوری
منظر ہے یہ جنت کا آسار بتاتے ہیں
آتے ہیں ملائک بھی سرکار کی مجلس میں
نغماتِ نبی سرور جنات سناتے ہیں
ہر آن ہی جاری ہے آقا کی ثنا ہر جا
کونین سدا مدحت سرکار کی گاتے ہیں
محمود نبی میرے سلطان ہیں نبیوں کے
ملنا ہو جو قادر سے قوسین میں جاتے ہیں

1
12
مختصر خلاصہ

یہ نعت محبتِ رسولِ اکرم ﷺ، میلادِ مصطفیٰ ﷺ، یادِ مدینہ اور دیدارِ نبوی ﷺ کی آرزو کا اظہار ہے۔ شاعر میلاد کی محفل کو محبت و عقیدت سے سجی ہوئی بزم قرار دیتا ہے، جہاں عاشقانِ رسول ﷺ ذکرِ مدینہ میں اشک بہاتے اور نعت و ثنائے مصطفیٰ ﷺ سے دلوں کو منور کرتے ہیں۔

مدینہ منورہ کی نورانی فضا اور جنت سے مشابہ مناظر کا ذکر کرتے ہوئے شاعر اپنی ہجر کی کیفیت اور سرکار ﷺ کی ایک دید کی تمنا بیان کرتا ہے۔ آخر میں حضور ﷺ کی عظمت، شانِ نبوت اور عالمگیر مدحت کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر کلام کا مرکزی جذبہ عشقِ رسول ﷺ اور قرب و دیدارِ مدینہ کی تڑپ ہے۔

0