ترے خیال سے دل کا چراغ جلتا ہے
اندھیری رات میں بھی راستہ نکلتا ہے
وہ ایک لمس جو مل جائے تیرے ہاتھوں کا
مرے وجود میں لطفِ بہار پلتا ہے
میں اپنے آپ سے ملتا ہوں جب کبھی تنہا
ترا ہی عکس مرے آئنے میں ڈھلتا ہے
عجیب رنگ ہے اس عشق کے مسافر کا
جہاں پہ رکنا ہو دل اور آگے چلتا ہے
نہ جانے کون سی لذّت ہے تیری باتوں میں
کہ ذکر تیرا ہو دل بَلیوں اچھلتا ہے
میں تیرے بعد بھی دنیا میں رہ تو لیتا ہوں
مگر یہ دل کسی صورت کہاں بہلتا ہے
کسی کے ساتھ نبھانا کمال ہے لیکن
خود اپنے آپ سے ملنے سے دل دہلتا ہے
ترے قریب جو آیا تو یہ ہوا ظاہر
سکون جسم نہیں روح بھی بدلتا ہے
یہی تو عشق کی شاید حسین منزل ہو
وہ دور ہو یا قریب آئے دل مچلتا ہے
سکھا دیا ہے محبّت نے ہم کو یہ طارِق
جو دل میں سچ ہو قلم سے وہی نکلتا ہے

0
8