| ہاں وہی ہاں وہی میرا استاد ہے |
| میرے علم و ہنر کی جو بنیاد ہے |
| میری ہر سانس پر جس کا سایہ ہے آج |
| جس کی محنت سے گلشن یہ آباد ہے |
| جس کی باتوں میں حکمت کا دریا بہے |
| جو سلیقے قرینے میں شہزاد ہے |
| جس کے لہجے میں جنت کی ٹھنڈک سی ہے |
| جس کی صحبت، محبت سے دل شاد ہے |
| جس کی اک اک نظر، ہے کرم ہی کرم |
| نقشِ دل بن گیا جس کا ارشاد ہے |
| دین و دنیا کا ہر علم جس سے ملا |
| جس کا ہر لفظ گویا کہ اَسناد ہے |
| جس نے جینے کا مجھ کو سلیقہ دیا |
| جس کی شَفْقَت سدا میری امداد ہے |
| سارے استاد ہر دم سلامت رہیں |
| یہ منور کی مولا سے فَریاد ہے |
معلومات