گھر میرا جگمگایا کرے
تو یوں ہی روز آیا کرے
چار دن کی تو ہو چاندنی
پھر اندھیرا ڈرایا کرے
میں بلندی کو چھوتا رہوں
تہمتیں وہ لگایا کرے
تھام لے ہاتھ اپنا کوئی
جب قدم ڈگمگایا کرے
یاد اچھی میرے ساتھ ہو
تلخیاں دھندلایا کرے
خوش رھے تو جہاں بھی رہے
ہاں مجھے بھی بلایا کرے
جب بھی لوٹوں میں گھر کو مِرے
ماں کھڑی مسکرایا کرے
دیکھا سپنے میں جنت میں تھے
تم ھی تھے وہ خدایا کرے
تیرے خاطر اے اسلم یہاں
کیوں کوئی وقت ضائع کرے

25