مجھے حیات نے رستے ہزار بخشے تھے
ہر ایک راہ پہ اوروں کا بھی تقاضا تھا
میں اپنے خواب کی جانب قدم بڑھاتا بھی
تو میرے سامنے اپنوں کا کوئی چہرہ تھا
مرے خلاف نہ کوئی تھا، پھر بھی جانے کیوں
تمام عمر مرے فیصلے خلاف رہے
میں جس سکوت کو اپنی رضا سمجھتا رہا
اسی سکوت میں میرے تھے اعتراف بہت
میں اپنے حق میں بھی اک بار بول سکتا تھا
مگر یہ بات مجھے عمر بھر گوارا نہ تھی
میں اپنے آپ کو محفوظ رکھ بھی سکتا تھا
مگر جو لوگ مرے تھے، انہیں کہاں رکھتا؟

0
4