دوستی ختم کرنا چاہتی ہے
جیتے جی خود ہی مرنا چاہتی ہے
اختلافات لاکھ ہیں لیکن
پانی میرا ہی بھرنا چاہتی ہے
جیت سکتی ہے وہ سہولت سے
پھر بھی مجھ سے ہی ہارنا چاہتی ہے
مجھ شکستہ کے لب سے وہ شاید
پیار کا ایک جھرنا چاہتی ہے
میری فہم و سمجھ سے باہر ہے
کیوں وہ حد سے گزرنا چاہتی ہے
اپنے ہونٹوں کا مرے ہونٹوں پہ وہ
احتجاجاً وہ دھرنا چاہتی ہے

0
14