موضوعی گفتگو سے برا مان کر مجھے
رسوا نہ دوست بزم کے دوران کر مجھے
اب پڑ گئی نہ تجھ کو ضرورت اے زندگی
کس نے کہا تھا بے سر و سامان کر مجھے
مجھ سے کوئی توقع نہ رکھے گریز کی
خود سے علیحدہ کرے خود چھان کر مجھے
اب مجھ پہ کوئی واقعہ کرتا نہیں اثر
معجز نما کلام سے حیران کر مجھے
وحشت سے آج تک ترا پالا نہیں پڑا
عمرِ رواں نہ اتنا پریشان کر مجھے
اپنےقیام کے لیے مجھ میں جگہ نہ ہو
اے وقت اس قدر بھی نہ گنجان کر مجھے
میں راز ہوں تو کوئی طلسمِ گداز پھونک
مشکل اگر بہت ہوں تو آسان کر مجھے
جو میں نے گام گام پہ لکھے ہیں دشت کے
قصےوہی سناتے ہیں سب آن کر مجھے
کہتا تھا جان جان قمرؔ بات بات پر
ان جان کہہ گیا ہے جو پہچان کر مجھے
قمرآسیؔ

0