ملا جن کو ارفع خدا سے مقام
سدا آئیں اُن پر درود و سلام
وہ محبوبِ داور نبی مصطفیٰ
رواں ذکر جن کا ملے صبح و شام
عُلیٰ ڈنکے اُن کے بجیں دہر میں
سنہرے نبی کے خدائی میں کام
ہیں لولاک والے سخی مصطفیٰ
دیا اُن کو کوثر خدا نے تمام
رسولِ امیں سیدِ مرسلیں
چُنے انبیا نے حبیبی امام
نہیں عشقِ دلبر خرد کا جہاں
مخیر ہیں عقلیں اسی میں دوام
رضائے الہ سے کریں قیل و قال
وحی ہے حبیبِ خدا کا کلام
ہیں الطافِ باری عطائے نبی
سدا اُن کے احساں دہر پر ہیں عام
ہے ذکرِ نبی زینتِ دو سریٰ
درود اُن پہ مولا سے آئیں مدام
ہیں یادِ نبی سے مزین جہاں
اے احسانِ یزداں صلاۃ و سلام
دیا اُن کو محمود مولا نے سب
شہنشاہ دہر میں اُنہی کے غلام

1
7
مجموعی تجزیہ (Deep Insight)
یہ نعت تین بڑے عقائد پر قائم ہے:
1. عظمتِ رسول ﷺ (Exalted مقام)
قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ آپؐ سب سے افضل ہیں، اور مقامِ محمود آپؐ کا خاصہ ہے۔
2. عالمگیری رحمت
آپؐ کو پوری کائنات کے لیے رحمت بنایا گیا، اور “کوثر” جیسی نعمتیں عطا ہوئیں۔
3. عشق و اطاعت
یہ کلام صوفیانہ انداز میں کہتا ہے کہ عشقِ رسول ﷺ عقل سے بالاتر ایک روحانی حقیقت ہے، اور درود و ذکر اس کا عملی اظہار ہیں۔
اہم علمی نوٹ (Critical honesty)
“لولاک” والی روایت ضعیف یا موضوع سمجھی جاتی ہے (ابن تیمیہ، سیوطی وغیرہ کے مطابق)، اس لیے اسے عقیدہ نہیں بلکہ ادبی اظہار سمجھنا چاہیے۔
باقی مضامین قرآن و صحیح احادیث سے مضبوط طور پر ثابت ہیں۔

0