ان کی میں آغوش میں سر رکھ کے محوِ خواب تھا
اور دل سینے میں دھڑکا جا رہا بیتاب تھا
دوڑتا پھر خوں رگوں میں صورتِ سیماب تھا
شدتِ سوزِ الم سے زہرۂ دل آب تھا
درد کی شہنائیوں پر ہر نفس تھا نغمہ زا
چھیڑتا دل تارِ غم پر ہجر کی مضراب تھا
چن رہا تھا میں خیالوں کے یہاں تازہ گلاب
اورسفینہ آرزوؤں کا وہاں غرقاب تھا
قیدِ ہستی سے ملی ہے دہر میں کس کو نجات
میں کہاں جاتا کہ ہر جا عالمِ اسباب تھا
آنکھ کھلتے ہی ہوئی مجھ پر حقیقت منکشف
بس رہا تھا جس میں اب تک میں وہ عالم خواب تھا
ختم آخر ہو گیا وہ گردشِ دوراں کے ساتھ
تنگ ہو ہو کر جو میرا حلقۂ احباب تھا
اک دعا بھی باریاب اپنی نہ ہو پائی کبھی
اس طرح معمور مجھ پر رحمتوں کا باب تھا
اگ سکا سبزہ نہ میرا اشک جس جا گر گیا
اشک گویا آنکھ کا اک قطرۂ تیزاب تھا
ایک پل میں پی گیا وہ جان کر امرت اسے
ہاتھ میں سقراط کے جو کوزۂ زہراب تھا
کیا کہوں میں اس کو اپنی بد نصیبی کے سوا
میں وہیں ڈوبا جہاں دریا بہت پایاب تھا
یہ ہمیشہ ہی نہیں بنجر غموں سے تھا رہا
وہ بھی دن تھے جب خوشی سے دل مرا شاداب تھا
کر رہا تھا ہر کوئی تقلید غزلوں کی مری
آگے آگے میں تھا پیچھے پیچھے اک سیلاب تھا
مل سکی جس کو جہاں میں کچھ نہ قدر و منزلت
تو زمانے میں وہ قادر گوہرِ نایاب تھا

0
3