اک نرم سی صدا نے مرا دل یوں چھو لیا
سویا ہوا وجود تھا خود سے ملا دیا
ویران دشتِ دل میں امیدوں کے گل کھلے
اک حرفِ صبر نے نیا رستہ دکھا دیا
میں خاک تھا مگر مری منزل فلک بنی
جب نفسِ مطمئنہ کی دولت مجھے ملی
طوفانِ وقت آیا تو ہنس کر گزر گیا
جس دل میں حق کا نور تھا وہ خود سنبھل گیا
پرواز دے مجھے کہ میں چھو آؤں آسماں
زنجیرِ خوف توڑ دے اے عزمِ بے کراں
منزل بھی مانگنے سے نہیں عزم سے ملے
قطرے بھی اپنے حوصلے سے بحر میں ڈھلے
اٹھ اے بشر کہ تیرے ہی اندر جہاں بھی ہے
تیرا چراغِ ذات ہی تیرا نشاں بھی ہے
جو خود کو پا گیا وہ زمانوں پہ چھا گیا
جو ڈر گیا وہ عزمِ سفر کھو کے رہ گیا
از:ساگرحیدرعباسی

0
2