| کسی کے ساتھ رہ کر بھی اکیلا ہو گیا ہوں میں |
| کہ اپنے آپ سے مل کر بھی تنہا ہو گیا ہوں میں |
| کسی کی یاد ہوتی ہی نہیں رخصت مرے دل سے |
| میں جس کو بھولنا چاہوں اسی کا ہو گیا ہوں میں |
| ترے جانے کا دکھ اتنا نہیں جتنی خوشی ہے یہ |
| کہ تیرے بعد خود سے بھی شناسا ہو گیا ہوں میں |
| میں اپنے زخم دنیا سے چھپاتا تھا یہ سچ تو ہے |
| مگر اک شخص کے آگے تو رسوا ہو گیا ہوں میں |
| وہ مجھ کو ڈھونڈتا پھرتا ہے میری خامشی سُن کر |
| یوں چپ رہ کر بھی جیسے اس سے گویا ہو گیا ہوں میں |
| مجھے منزل کی خواہش تھی مگر لگتا ہے سب چھُوٹا |
| کہیں رستے میں شاید ایستادہ ہو گیا ہوں میں |
| چراغِ دل بجھا کر لوگ سمجھے ختم ہے قصّہ |
| ہوا آئی تو قد میں اور اونچا ہو گیا ہوں میں |
| محبت نام ہے خود سے کسی کو چاہنا بڑھ کر |
| اسے کیوں راز سمجھا ہے کہ افشا ہو گیا ہوں میں |
| مری بہکی سی باتیں ہیں میں اپنا آپ بھولا ہوں |
| محبّت میں بتاؤں کیا کہ کیسا ہو گیا ہوں میں |
| کسے شکوہ ہے طارِق اب زمانے بھر میں چرچا ہے |
| جسے سب راز کہتے ہیں وہ دنیا ہو گیا ہوں میں |
معلومات