| جب اپنی ہانڈی میں پتے ابال رکھتا ہوں |
| خدا کا حصہ میں پہلے نکال رکھتا ہوں |
| مری فقیری مجھے لاجواب کرتی نہیں |
| سو اپنے آگے ہی دستِ سوال رکھتا ہوں |
| یہ خود نمائی ہے در اصل حکم کی تعمیل |
| کہا تھا اس نے سو اپنا خیال رکھتا ہوں |
| بہت سے لوگوں کی ہوتی نہیں مثال کوئی |
| تمہارے سامنے اپنی مثال رکھتا ہوں |
| میں جانے والے کے پاؤں پکڑ نہیں سکتا |
| پر آنے والے کا رستہ اجال رکھتا ہوں |
| کہ ایک دن مجھے آخر انہی سے ملنا ہے |
| گزشتگاں سے تعلق بحال رکھتا ہوں |
| فلک مجال پہ کرتا نہیں مری کوئی بات |
| اسے خبر ہے میں کتنی مجال رکھتا ہوں |
| وہ جس کے بدلے اداسی ہوئی خفا مجھ سے |
| میں اس خوشی کا ابھی تک ملال رکھتا ہوں |
| قلم حدود میں رکھنے کا میں نہیں قائل |
| زبان اپنی مگر میں سنبھال رکھتا ہوں |
| قمرآسیؔ |
معلومات