مدینہ ہے جنت بھلایا نہ جائے
فراقِ مدینہ چھپایا نہ جائے
یہ روضہ نبی کا یہ جالی سنہری
ہے ما فوق، لفظوں میں لایا نہ جائے
نہیں اتنے آساں جو دوری کے پل ہیں
جو گزری ہے دل پر دکھایا نہ جائے
ہے سینے میں روشن چراغِ محبت
کبھی پھونک سے جو بجھایا نہ جائے
یہ گلیوں میں رونق یہ راہیں فروزاں
منور ہیں کیسے بتایا نہ جائے
ہیں وللیل زلفیں ضحیٰ چہرہ اُن کا
مگر پردہ ایسا ہٹایا نہ جائے
خدا نے ہے یکتا بنایا نبی کو
نبی کا سوالی رُلایا نہ جائے
درِ مصطفیٰ ہے یہ محمود سن لے
یہاں پر کسی کو ستایا نہ جائے

0
1
3
مختصر اور جامع خلاصہ

یہ نعت مدینۂ منورہ سے گہری محبت، فراق کی تڑپ اور حضورِ اکرم ﷺ سے عقیدت کا اظہار ہے۔ شاعر مدینے کو جنت قرار دیتے ہوئے روضۂ رسول ﷺ، سنہری جالی، روشن گلیوں اور فروزاں راہوں کی عظمت و حسن بیان کرتا ہے۔ واللیل اور الضحیٰ کی تلمیح کے ذریعے حضور ﷺ کے حسن و جمال کو نہایت لطیف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ آخر میں شاعر اپنی عاجزی ظاہر کرتے ہوئے عرض کرتا ہے کہ نبی ﷺ کا سوالی کبھی رُلایا نہ جائے اور درِ مصطفیٰ ﷺ پر کسی کو دکھ یا تکلیف نہ دی جائے۔

0