جو نغمہ مسرت کا کونین میں جاری ہے
سرکار کی آمد سے یہ رحمتِ باری ہے
دارین میں سج دھج ہے خوشیوں کے بجیں ڈنکے
مختار سخی سرور کیا شان تمہاری ہے
بی آمنہ نازاں ہیں عرشی بھی مبارک دیں
ہے دائی حلیمہ جو سرکار پہ واری ہے
لو لاک کہے مولا دلدارِ زمانہ کو
اُن قاسمِ نعمت کا مسرور بھکاری ہے
ہیں تاجِ رسالت میں سرکار ملے ہم کو
یہ آمدِ انور بھی دنیا میں نیاری ہے
آقا کے حرم سے پھر شاید یہ صدا آئی
کہتی ہے رسولوں سے سرکار کی باری ہے
ہے روحِ جہاں شاداں گلشن میں بہاریں ہیں
جو حالتِ مستی ہے کونین پہ طاری ہے
محمود سخی سرور سرکار کے آنے سے
سرمست لگے ہستی گردوں میں خماری ہے

0