ان حسینوں کے بھلے چہروں پہ جانا نہ کبھی
دل انھیں دے کے سکوں دل کا گنوانا نہ کبھی
جنتیں روٹھ نہ جائیں کہیں تجھ سے یارا
اپنے ماں باپ کو غلطی سے ستانا نہ کبھی
جب رضا رب کی ہے درکار تو خفیہ رکھنا
کر کے نیکی سرِ بازار جتانا نہ کبھی
علم و دانش ہے خدا کی بڑی نعمت تم پر
خود کو بے فیض مباحث میں کھپانا نہ کبھی
لوگ مرہم کے بہانے سے نمک ڈالتے ہیں
لوگ ظالم ہیں انہیں زخم دکھانا نہ کبھی

0
1