ہیں نورِ ذاتِ یزداں چادر بشر کی ہے
تصویر خود بتائے کس کے ہنر کی ہے
عالم ہیں کن فکاں کے شاہد بھی آپ ہیں
باندی سدا فصاحت انہی کے در کی ہے
آقا قرارِ جاں ہیں دلدارِ کبریا
روشن نبی سے قسمت سارے دہر کی ہے
پہنچی کبھی نہ دانش ادراکِ عشق تک
یہ بات سوزِ دل اور ظرفِ نظر کی ہے
لیل و نہار تاباں نورِ نبی سے ہیں
آسودگی اسی سے شام و سحر کی ہے
پھیلا ہے جلوہ ہر سو اُن کے جمال کا
تابندگی اسی سے شمس و قمر کی ہے
بندوں میں مصطفیٰ کے محمود نام ہو
عزت کریم نے رکھی چشمِ تر کی ہے

1
13
مختصر خلاصہ:
یہ نعتِ رسولِ اکرم ﷺ حضور ﷺ کی **نورانی ذات، عظمت، فصاحت، جمال، رحمت اور کائنات پر آپ ﷺ کے فیض** کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کے مطابق آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس بشری قالب میں جلوۂ نور ہے، آپ ﷺ کائنات کے حقائق کے شاہد ہیں اور فصاحت بھی آپ ﷺ کے در کی باندی ہے۔ آپ ﷺ سے وابستہ ہو کر دنیا کو روشنی، سکون اور عزت حاصل ہوتی ہے، جبکہ آپ ﷺ کے عشق کی گہرائی عقل کے ادراک سے بلند ہے۔ آخر میں شاعر اپنے نام **محمود** کے ساتھ اللہ کریم سے امید ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس کی اشک بھری آنکھوں کی لاج رکھے۔

**مرکزی پیغام:**
حضور ﷺ کی محبت و نسبت ہی دل کے سکون، زندگی کی روشنی اور بندۂ مؤمن کی عزت و امید کا سرچشمہ ہے۔

0