| خام خواہش کو کبھی تو، اپنی منزل مت بنا |
| جو مقدر سے ملا ہے، گیت بس اس کے سنا |
| قید کیوں کر ہو گیا تو، درد کے اس جال میں |
| تیرگی نے کب تری راہوں کو اے دل ہے چنا |
| حسرتیں تو بے شمار اب دل میں میرے دفن ہیں |
| عمر بھر کے دکھ سہے جو، ان کو میں نے کب گنا |
| راکھ ہو کر اڑ گئے ہیں، خواب میرے دشت میں |
| میں نے تو امید کا اک، چھوٹا سا خیمہ بُنا |
| خستگیِ جاں کو اب، جینے کی خواہش ہی نہیں |
| ہو گئی ہے شادؔ اب تو، ساری دنیا ہی فنا |
معلومات