سبھی ذریعۂ اظہار کی پہچان زبان ہے
دلوں کے ربط کی پہلی سی پہچان زبان ہے
کتابوں کا جتنا بھی بوجھ اٹھا لے انسان
سکونِ روح مگر دیتی ہے ماں کی زبان ہے
نہ دولت، نہ ہنر، نہ ہی کوئی اور نشان
جو قوموں کو سنوارے وہی بنیاد زبان ہے
جن اقوام نے رکھا اسے سینے سے لگا کر
انہی کی شان، ترقی، انہی کی آن زبان ہے

0
59