وَفَا کے رَستے میں جو مِلی ہیں، عَدَاوَتیں بھی شُمار کَرنا
جو ہَم نے ہَنس کر سَہی ہیں اَب تَک، مَلامَتیں بھی شُمار کَرنا
وہ جِن کے سائے میں کَٹ گئی تھی ہَماری عُمرِ رَواں کی خُوشبُو
بِچھَڑتے لَمحوں کی وہ رَسیلی حِکایَتیں بھی شُمار کَرنا
کَبھی جو فُرصَت مِلے تو دِل کے شِکَستہ خانوں میں جھانک لینا
جو اِس میں مدفون ہو چُکی ہیں، وہ حَسرَتیں بھی شُمار کَرنا
تُم اَپنی جِیتوں کے جَشن میں تو مَگَن ہو لیکن مِرے مُسافِر!
جو ہار کَر مَیں نے تُم کو دی ہیں، وہ راحَتیں بھی شُمار کَرنا
وہ جِس نے اَپنے قَلَم سے لِکھِیں، تِری جَفا کی تَمام باتیں
اُسی کی تَحرِیر میں چُھپی اَب، نَصِیحَتیں بھی شُمار کَرنا
کَہا تھا عادِلؔ نے ہِجر کی اِس کَٹھِن گھَڑی میں یہ روتے روتے
مُحَبّتوں کے نِصاب میں اَب، ضَرُورَتیں بھی شُمار کَرنا

0
1