مجھ کو خنجر سے نہ تلوار سے ڈر لگتا ہے
تیرے لہجے، تری گفتار سے ڈر لگتا ہے
یوں میں اپنوں سے کہیں دور نہ ہوتا جاؤں
زندگی! اب تری رفتار سے ڈر لگتا ہے
حسنِ گفتار پہ واعظ! ترا ماتھا چوموں
پر تری ریشمی دستار سے ڈر لگتا ہے
عمر بھر جس کو زمانے سے جفائیں ہی ملیں
اس کو پھر الفت و ایثار سے ڈر لگتا ہے
سخت لہجے میں محافظ نے مجھے سمجھایا
حاکمِ شہر کو اشعار سے ڈر لگتا ہے
عادل ریاض کینیڈین

0
1