| وہ بہت ہی خاص تھا، دل کو یہ احساس تھا |
| سن رہا تھا دھڑکنیں، اس قدر وہ پاس تھا |
| واقعہ یہ کل کا تھا ساتھ اپنا پل کا تھا |
| ڈھل رہی تھی زندگی، وقت چل سو چل کا تھا |
| ایک لمحے کے لیے، جل اٹھے تھے سب دیے |
| سامنے تھا وہ مرے، چپ کھڑا تھا لب سیے |
| پھر گھڑی وہ آ گئی اک اداسی چھا گئی |
| وقت تھا وہ قیمتی، جو جدائی کھا گئی |
| مجھ کو بھی پرواہ تھی، اُس طرف بھی چاہ تھی |
| ہم جدا تو تھے مگر، دل کو دل سے راہ تھی |
| آخر اک دن ہم ملے، کچھ ہوئے شکوے گلے |
| پھر محبت جاگ اٹھی، چل پڑے پھر سلسلے |
| لب پہ اب اظہار تھا ہر طرف بس پیار تھا |
| ابتدا جیسی بھی تھی انتہا اقرار تھا |
معلومات