وہ بہت ہی خاص تھا، دل کو یہ احساس تھا
سن رہا تھا دھڑکنیں، اس قدر وہ پاس تھا
واقعہ یہ کل کا تھا ساتھ اپنا پل کا تھا
ڈھل رہی تھی زندگی، وقت چل سو چل کا تھا
ایک لمحے کے لیے، جل اٹھے تھے سب دیے
سامنے تھا وہ مرے، چپ کھڑا تھا لب سیے
پھر گھڑی وہ آ گئی اک اداسی چھا گئی
وقت تھا وہ قیمتی، جو جدائی کھا گئی
مجھ کو بھی پرواہ تھی، اُس طرف بھی چاہ تھی
ہم جدا تو تھے مگر، دل کو دل سے راہ تھی
آخر اک دن ہم ملے، کچھ ہوئے شکوے گلے
پھر محبت جاگ اٹھی، چل پڑے پھر سلسلے
لب پہ اب اظہار تھا ہر طرف بس پیار تھا
ابتدا جیسی بھی تھی انتہا اقرار تھا

0
3