غم کی چوکھٹ پہ پڑا دیکھا ہے
عشق سولی پہ چڑھا دیکھا ہے
روز دیکھا ہے خزاں کا موسم
امتحاں گل کا کڑا دیکھا ہے
زندگی پائی ہے طوفانوں میں
پھر شجر کو بھی کھڑا دیکھا ہے
ہیں ستم دل پہ محبت کے بھی
پر اسے ضد پہ اڑا دیکھا ہے
جسم کو چاٹ گئی ہے دیمک
اور مرض حد سے بڑھا لگتا ہے
ہم نے دیکھی ہیں وفا کی قیمت
تاج میں ہیرا جڑا دیکھا ہے
سوہنی ڈوبی ہے گم صُم لیکن
شہر میں پکا گھڑا دیکھا ہے
پردہ چہرے سے اٹھا کے بولے
جگ نے ہرجائی بڑا دیکھا ہے
یوں گرایا ہے جہاں نے شاہد
سر کو مٹی میں گڑا دیکھا ہے

0
2