| سچی بات سکھاتے یہ ہیں |
| سیدھی راہ دکھاتے یہ ہیں |
| ڈوبی ناویں تراتے یہ ہیں |
| ہلتی نیویں جماتے یہ ہیں |
| ٹوٹی آسیں بندھاتے یہ ہیں |
| چھوٹی نبضیں چلاتے یہ ہیں |
| جلتی جانیں بجھاتے یہ ہیں |
| روتی آنکھیں ہنساتے یہ ہیں |
| قصرِ دَنیٰ تک کس کی رَسائی |
| جاتے یہ ہیں آتے یہ ہیں |
| اس کے نائب ان کے صاحب |
| حق سے خَلْق ملاتے یہ ہیں |
| شافع نافع رافع دافع |
| کیا کیا رحمت لاتے یہ ہیں |
| شافع اُمت نافع خَلْقَت |
| رافع رتبے بڑھاتے یہ ہیں |
| دافع یعنی حافظ و حامی |
| دَفع بلا فرماتے یہ ہیں |
| فیض جلیل خلیل سے پوچھو |
| آگ میں باغ کھلاتے یہ ہیں |
| ان کے نام کے صدقے جس سے |
| جیتے ہم ہیں جلاتے یہ ہیں |
| اس کی بخشش ان کا صدقہ |
| دیتا وہ ہے دِلاتے یہ ہیں |
| ان کا حکم جہاں میں نافذ |
| قبضہ کل پہ رکھاتے یہ ہیں |
| قادِرِ کُل کے نائب اَکبر |
| کن کا رنگ دِکھاتے یہ ہیں |
| ان کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے |
| مالک کُل کہلاتے یہ ہیں |
| اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَر |
| ساری کثرت پاتے یہ ہیں |
| رب ہے مُعْطِی یہ ہیں قاسم |
| رِزْق اُس کا ہے کھلاتے یہ ہیں |
| ماتم گھر میں ایک نظر میں |
| شادی شادی رَچاتے یہ ہیں |
| اپنی بنی ہم آپ بگاڑیں |
| کون بنائے بناتے یہ ہیں |
| لاکھوں بلائیں کروڑوں دشمن |
| کون بچائے بچاتے یہ ہیں |
| بندے کرتے ہیں کام غضب کے |
| مژدہ رضا کا سناتے یہ ہیں |
| نزع رُوح میں آسانی دیں |
| کلمہ یاد دلاتے یہ ہیں |
| مرقد میں بندوں کو تھپک کر |
| میٹھی نیند سلاتے یہ ہیں |
| باپ جہاں بیٹے سے بھاگے |
| لطف وہاں فرماتے یہ ہیں |
| ماں جب اکلوتے کو چھوڑے |
| آ آ کہہ کے بلاتے یہ ہیں |
| سنکھوں بیکس رونے والے |
| کون چُپائے چپاتے یہ ہیں |
| خود سجدے میں گر کر اپنی |
| گرتی اُمت اُٹھاتے یہ ہیں |
| ننگوں بے ننگوں کا پردہ |
| دامن ڈھک کے چھپاتے یہ ہیں |
| اپنے بھرم سے ہم ہلکوں کا |
| پلہ بھاری بناتے یہ ہیں |
| ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا |
| پیتے ہم ہیں پلاتے یہ ہیں |
| سَلِّم سَلِّم کی ڈَھارس سے |
| پل پر ہم کو چلاتے یہ ہیں |
| جس کو کوئی نہ کھلوا سکتا |
| وہ زَنجیر ہلاتے یہ ہیں |
| جن کے چھپر تک نہیں اون کے |
| موتی محل سجواتے یہ ہیں |
| ٹوپی جن کے نہ جوتی ان کو |
| تاج و براق دِلاتے یہ ہیں |
| کہدو رضا ؔسے خوش ہو خوش رہ |
| مژدہ رضا کاسناتے یہ ہیں |
معلومات