| دلوں کے واسطے آرامِ جاں محمدؐ ہیں |
| کہ سر پہ رحمتوں کا سائباں محمدؐ ہیں |
| یتیم ، جن کو زمانہ سمجھ نہیں پایا |
| وہ خوش ہیں اس لئے کہ مہرباں محمدؐ ہیں |
| غریب جس کی طرف دیکھتا نہ تھا کوئی |
| اُسی غریب کی ہر دم اماں محمدؐ ہیں |
| جو دشمنوں کے لیے بھی دعائیں کرتے تھے |
| وہ عفو و رحم کا اک گلستاں محمدؐ ہیں |
| نہ فخر مال کا کوئی نہ فرقِ رنگ و نسَب |
| تمام خَلْق کے حق میں بیاں محمدؐ ہیں |
| غلام آئے جو در پر تو سر اٹھا کے گئے |
| کہ احترامِ بشَر کا نشاں محمدؐ ہیں |
| جہاں میں عَدْل کا میزان آپؐ نے رکھّا |
| غنی ، فقیر ہیں یکساں ، یہاں محمدؐ ہیں |
| لبوں پہ سچ، دلِ پاکیزہ، آنکھ میں شفقت |
| حیاتِ حُسنِ عمل کی اذاں محمدؐ ہیں |
| اندھیری رات میں بھٹکے ہوئے مسافر کو |
| چراغِ راہِ ہدایت، عیاں محمدؐ ہیں |
| خدا کی یاد سے آباد کر دیا دل کو |
| کہ بندگی کے سفر میں رواں محمدؐ ہیں |
| خیال آئے مدینے کا آنکھ کر دے نم |
| مرے لئے تو وہی آستاں محمدؐ ہیں |
| شرَف یہ نعتِ نبیؐ کا ملے کِسے طارِقؔ |
| قلم کی جان، دلوں کی زباں محمدؐ ہیں |
معلومات