| سچ کی آوازیں لگا کر زرد رُو اب جی چکا ہوں |
| ظلم کی تاریک شب میں ہر ہلاہل پی چکا ہوں |
| چیخنے سے جب نہ بدلا اس سڑے مردار کا رنگ |
| کاٹ کر احساس کی گردن لب اپنے سی چکا ہوں |
| سچ کی آوازیں لگا کر زرد رُو اب جی چکا ہوں |
| ظلم کی تاریک شب میں ہر ہلاہل پی چکا ہوں |
| چیخنے سے جب نہ بدلا اس سڑے مردار کا رنگ |
| کاٹ کر احساس کی گردن لب اپنے سی چکا ہوں |
معلومات