لباس پارسائی سے شرافت نہیں ملتی
ہو نفس سرکش تو حلاوت نہیں ملتی
رکھنا ہے باطن کو ملحوظ نظر پند میں
غیر پر نگاہ رکھنے سے قوت نہیں ملتی
دینے پڑتے ہیں سرانجام کارنامے نمایاں
یونہی کسی سالار کو شہرت نہیں ملتی
موجود ہیں شہر بابل کے نشانات بھی
بغیر حوادث کے چشم عبرت نہیں ملتی
گزارنی ہے زندگی ایماں کے سائے میں
ناقص یقیں کو ورنہ تقویت نہیں ملتی
پار کرنے ہوتے ہیں پہاڑ آلام کے ناصر
تبتک تکلیفوں سے راحت نہیں ملتی

23