تخیل میں جِلا آئی مدینے سے ہوا آئی
مقدر جاگے ہستی کے زبانوں پر ثنا آئی
مہک پھیلی فضاؤں میں جہاں میں رونقیں ہر جا
ہزاروں نعمتیں اس میں لئے لطف و عطا آئی
شرارے کفر کے ٹھنڈے گرے طاغوت کے پھندے
زہے نوری مدینے سے شفاعت کی دعا آئی
اخوت سینوں میں آئی فراوانی مروت میں
دغا کافور دنیا سے ہے وعدوں میں وفا آئی
سعادت مند ہے بیٹی ملی خاتون کو عزت
کھلے بندن غلاموں کے مریضوں کی شفا آئی
درخشاں ہے چمن سارا محبت ہے دلوں میں بھی
گلوں میں مسکراہٹ ہے کیا صبحِ صفا آئی
حسیں دلبر جہانوں کے جمالِ دو سریٰ بھی ہیں
یہ رعنائی زمانے میں نبی سے ہے سدا آئی
ارم شہرِ مدینہ ہے کہے محمود دنیا سے
مقدر کی یہ باتیں ہیں مدینے گر قضا آئی

1
5
یہ اشعار دراصل ایک نعتِ شریف کے رنگ میں ایک روحانی انقلاب کی کہانی سناتے ہیں۔ شاعر ظاہری الفاظ سے زیادہ باطنی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ اس میں مدینہ کی ہوا صرف جغرافیائی ہوا نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی لہر ہے جو انسان کے دل، معاشرے اور پوری دنیا کو بدل دیتی ہے۔
یہ پوری نعتِ شریف دراصل ایک روحانی پیغام ہے:
مدینہ کی نسبت دل کو روشن کرتی ہے
انسان کے اخلاق بدل دیتی ہے
معاشرے میں انصاف، محبت اور عزت پیدا کرتی ہے
انسان کو رحمت اور شفاعت کی امید دیتی ہے۔
اس طرح شاعر بتاتا ہے کہ دنیا کی حقیقی خوبصورتی اسی محبوبِ دو عالم کی تعلیم اور نسبت سے ظاہر ہوئی۔

0