| تخیل میں جِلا آئی مدینے سے ہوا آئی |
| مقدر جاگے ہستی کے زبانوں پر ثنا آئی |
| مہک پھیلی فضاؤں میں جہاں میں رونقیں ہر جا |
| ہزاروں نعمتیں اس میں لئے لطف و عطا آئی |
| شرارے کفر کے ٹھنڈے گرے طاغوت کے پھندے |
| زہے نوری مدینے سے شفاعت کی دعا آئی |
| اخوت سینوں میں آئی فراوانی مروت میں |
| دغا کافور دنیا سے ہے وعدوں میں وفا آئی |
| سعادت مند ہے بیٹی ملی خاتون کو عزت |
| کھلے بندن غلاموں کے مریضوں کی شفا آئی |
| درخشاں ہے چمن سارا محبت ہے دلوں میں بھی |
| گلوں میں مسکراہٹ ہے کیا صبحِ صفا آئی |
| حسیں دلبر جہانوں کے جمالِ دو سریٰ بھی ہیں |
| یہ رعنائی زمانے میں نبی سے ہے سدا آئی |
| ارم شہرِ مدینہ ہے کہے محمود دنیا سے |
| مقدر کی یہ باتیں ہیں مدینے گر قضا آئی |
معلومات