"سیلاب"
کچھ بھی رہا نہ ساری نشانی نگل گیا
پانی تو میری پوری کہانی نگل گیا
اک بوجھ زندگی کا مرے نام سونپ کر
آبِ رواں سفر کی روانی نگل گیا
مدت سے منتظر تھے، کہ سینچے گا یہ، چمن
برسا یوں آنکھ سے کہ جوانی نگل گیا
کیا حرف میں کروں رقم اس اژدہے کی اب
جینے کے میرے سارے معانی نگل گیا
کشتی کے ڈوبنے کا توغم ہے مگر کلیم
کتنے سمندروں کو یہ پانی نگل گیا

0
1