| خبر کسے تھی کہ ایسا بھی امتحاں ہو گا |
| جو حرز جاں ہے بنا وہ وبال جاں ہو گا |
| ۔ |
| میں اس لیے نہیں کہتا کسی سے اپنے راز |
| کہ رازداں کا بھی کوئی تو رازداں ہو گا |
| ۔ |
| کبھی تو دے گا وہ اس گل تلک رسائی ہمیں |
| کبھی تو ہم پہ بھی گلچیں وہ مہرباں ہو گا |
| ۔ |
| فریفتہ ہے ہمی پر یہ شمعِ محفل بھی |
| ہوئے نہ ہم تو نہ یہ ذوق اور سماں ہو گا |
| ۔ |
| مرادِ دل جو مدثر ابھی نہ بر آئی |
| تو اس تڑپ کا ابھی اور امتحاں ہو گا |
معلومات