ظرف ہوتا ہے بس فقیروں میں
بانٹتے خیر ہیں شریروں میں
شاہ کا دھیان بانٹنے والا
کوئی کم ذات ہے مشیروں میں
اک نجومی نے راز کھول دیا
کچھ نہیں ہاتھ کی لکیروں میں
ان گنت ہیں دعائیں میرے ساتھ
گنا جائے مجھے امیروں میں
دے رہے ہیں کمین گہ کی خبر
پھول اٹکے ہوئے ہیں تیروں میں
تخت پر اک سپاہی قابض ہے
والیِ تخت ہے اسیروں میں
محفلِ مہ رخاں میں ہے آسیؔ
کوئلے سا چمکتے ہیروں میں
قمرآسیؔ

1