لَب پَہ ذِکْرِ اَحْمَدِ مُخْتَار کی تَکْرَار ہے
دِل میں یادِ سَیِّدِ اَبْرَار کی بَہَار ہے
مصطفی کا نام ہی جس کا ترانہ ہو گیا
خلد میں جاۓ گا جو سَرْکار کا حب دار ہے
دونوں عالَم میں ہماری رَہْنُمائی کے لیے
نَازِشِ کَوْنَین کا کِرْدَار اور، گُفْتَار ہے
جان و دل قربان اپنی عاقبت کے واسطے
مصطفی کی آل سے جو پیار کا اقرار ہے
نعتِ محبوبِ خدا عتیق یوں لکھتا رہے
آپ سے الفت کا یوں اشعار میں اظہار ہے

0
4